Posts

Showing posts from June, 2024

گیارہ سالی بچہ میرا نوکر تھا

 شوہر سے پوچھ کر میں نے کام والی سے کہا کے ماسی کام کیلئے مجھے ایک بچہ چاھیئے اچھی سیلری بھی دوں گی اور اچھے سے رکھوں گی وہ گھر کا کام بھی کرے اور یہیں رھے ماسی نے جواب دیا کے ٹھیک ھے میں پتا کروں گی میں نے ماسی کو ایک ہزار دیا اور میں نے کہا کے مجھے کل لا دو میں تم کو پانچ ہزار دوں گی لیکن تین دن گزرے جب چوتھے دن آئی تو ماسی لڑکا ساتھ لائی تھی لزکا گیارہ سال کا تھا صحت میں بھی اچھا تھا گورا اور کیوٹ تھا میں دیکھتی گئی تو میری چوت گرم ھو گئی میں نام پوچھا تو جمشید بتایا سیلری ماسی کو پندرہ ہزار بتائی ماسی سے کہا اسے کام بتا دو گھر دیکھا دو میں نہانے جار رھی ھوں میں آکر مستی میں تھی نگی ھو کر شاور چلا کر مموں کو چوستی دباتی چوت میں انگلی سے پانی نکال کر نہا کر آئی ماسی صفائی کر کے چلی گئی میں جمشید کو بلایا کہا میرے پاؤں دباؤ کچھ دیر دباتا رہا کچھ دن ھی ھوئے تھے کے جمشید کا جھجھک پن ختم ھوا میں اپنے کندھے بھی دبواتی رانیں بھی ایک رات میں برداش نہ کر پائی جمشید سے کہا آج تم میرے پورے جسم کی مالش کرو جمشید سن کو خوش ھو گیا میں نے کہا تیل لاؤ تیل لینے گیا میں نگی ھو کر لیٹ گئی جمشید نے...

مجھے موقعہ نہیں مل رہا تھا

گاؤں میں پاپا کے دوست کی شادی تھی تو پاپا اور مما چلے گئے تو راوی بھائی کہنے لگے دیدی میں سارا کو بلا لوں اگر آپ کی اجازت ھو تو مجھے تو اس موقعہ کو گوانا نہیں چاہتی تھی میں نے کہا تم کیا کرو گے کہا کچھ نہیں بس تھوڑا کچھ کر لینگے پلز دیدی مان جاؤ میں نے کہا میری دو شرطیں ہیں اس میں ایک نہ مانو گے تو میں نہیں مانو گی کہا اچھا دیدی کیا شرط ھے میں نے کہا آج نہیں کل بلا سکتے ھو کہا اچھا میں نے کہا دوسری شرط یہ ھے کے جو تم سارا سے کرتے ھو آج میرے ساتھ کرو گے کہا سچ میں دیدی میں نے کہا ہاں بھائی کہے تو رھی ھوں کہا ٹھیک ھے اور مجھے باہوں میں بھر کو چومتے اٹھا روم میں لایا بیڈ پر لٹاتے کہا دیدی تم سارا سے بھی بہت پیاری ھو ھم دونوں ایک دوسرے کو چومنے لگے ھونٹ چوستے گالوں کو چہرو کو مستی میں میرے مموں کو دباتے ھوئے نکال کر چوسنے لگا میں تو مستی میں مست تھی راوی نے مجھے نگا کر دیا میری چوت کو چومنے چاٹنے لگا پھر اپنی شیٹ اتار کر پینٹ اور چڈی اتار دی راوی کا لن مستی کھڑا تھا میں نے لن کو پڑا اور چومنے چوسنے لگی راوی مجھے چومتا مموں دباتا میری چوت میں انگلی کرتا ھم دونوں فل مستی میں تھے پھر راوی نے ...

میں ماں کیسے بنی میری سچی آپ بیتی

ھیلو فرینڈز میرا نام شگفتہ ھے بنا وقت زایا کیئے میں اپنی بیتی ھوئی کہانی شیر کرتی ھوں تو دوستو میں شادی شدہ ھوں میرا شوہر شوہر اکثر ملک سے باہر رہتا تھا اور میں اولاد سے بھی محروم تھی میری شادی کو 18 سال ھو گئے شوہر تو اکثر ملک سے باہر رہتا تھا جس کی وجہ سے میں بہت گرم رہتی تھی جس کی وجہ سے میں خود سے سیکس کرتی اور اپنی پھدی کا پانی نکالتی رہی میں چوتھے فلور پر رہتی تھی اور سامنے والا اپارٹمنٹ بند تھا اسی کچھ ھی مہنو بعد اس گھر میں ایک فیملی آگئی میاں بیوی اور ان کا ایک چھوٹا بیٹا جو 13 سال کا بچہ تھا اس کا نام عاصم تھا کچھ ھی دنوں میں عاصم کی مما سے میری اچھی خاصی دوستی ھو گئی جس کی وجہ سے عاصم اور ان کی ممی کا ھم دونوں کے گھروں میں آنا جانا بھی شروع ھو گیا ایک رات میں بہت زیادہ گرم تھی نگی تھی اور سیکس میں مصروف تھی اسی دوران بیل بجی میں نیٹی پہن کر پھدی میں انگلی کرتی ھوئی ڈور کھولنے گئی ڈور کھولی تو عاصم تھا اس بار عاصم کو دیکھی تو بہت گرم ھو گئی عاصم نے کہا شگفتہ آنٹی ممی پاپا کسی کی شادی میں گئے ہیں کیا میں آپ کے ساتھ وقت گزار سکتا ھوں میں نے کہا اس میں کوئی پوچھنے کی بات ھے آجاؤ...