ھیلو دوستو میرا شلیجہ ھے۔ میں گاؤں سے اپنی خالہ کے گھر پڑھنے آئی بی اے کرنا تھا کی اپنی ڈریسنگ شاپ تھی اور خالو ٹیچر تھا خالہ دس بجے جاتی اور رات کے دس بجے آتی اور خالو پانچ بجے آتے میں بھی تین سے چار بجے آجاتی خالہ کی کوئی اولاد نہیں تھی اس لیئے خالہ اور خالو میرا بہت خیال رکھتے اور بیٹیوں سے بھی زیادہ خیال رکھتے خالہ تو اپنی شاپ میں بیزی رہتی اس لیئے میرا زیادہ وقت خالو کے ساتھ گزرتا خالہ کی شادی کو صرف پانچ سال گزرے تھے ابھی دونو ینگ تھے وقت گزرنے لگا ایک بار آیسا ھوا کے میری طبیعت خراب تھی تو میں چھٹی لےکر گھر آئی اور میرا جسم ایک دم ٹھنڈا ھونے لگا مجھے سردی لگنے لگی خالہ کو فون کر کے بتایا تو کہا اچھا میں تیرے خالوں کو بھیجتی ھوں مجھے آنے میں دیر ھوگی۔ مجھے بہت ٹھنڈ لگ رھی تھی اور میں کانپ رھی تھی کچھ ھی دیر میں خالو آگیا مجھے اس حالت میں دیکھ کر پریشان ھو گیا میں بس کانپے جارھی تھی اور میرا جسم برف کی طرح ٹھنڈا ھو رھا تھا پھر کچھ ھی دیر میں خالو رضائی میں مجھے اپنی باھوں میں بھر کر چومنے لگا اور خالو کا لن بھی کھڑا تھا خالو مجھے گرم کرنے لگا مجھے محسوس ہوا کے خالو نگا ...