بے لجام عورت کی پیاس: جب خواہش حد سے بڑھ گئی! | Sachi Kahani 😱

Image
ھیلو دوستو میرا نام زویا ھے میں گاؤں کی رہنے والی سیدھی سادی لڑکی تھی میری دوستی ایک لڑکے عدیل سے ھو گئی جسے میں بہت پیار کرتی تھی میں عدیل کے پیار میں اتنی ڈوب گئی کے اس عدیل کے ساتھ میں بھاگ کر شہر آگئی آج میں اپنی یہی کہانی سنانے کیلئے آئی ھوں تو میں شروع کرتی ھوں تو دوستو یہاں آکر ھم ساتھ رہتے مزے کرنے لگے ایک دن دب رات بس چدائی کرتے رہتے ہمارے پاس پیسے ختم ھو گئے مگر میں مزید گرم ھوتی گئی اب مجھے لگتا تھا صرف عدیل اکیلا میری آگ نہیں بجھا سکتا ھم دونوں ننگے رہتے تھے میری آگ دن با دن بڑھتی جا رھی تھی رات کو ھم نے ایسی چدائی کی کے گھر کے سارے کپڑوں کا ڈھیر فرش پر بکھرا پڑا تھا۔ ایک بٹن ٹوٹ کر دیوار سے جا ٹکرایا۔ میں نے آئینے میں اپنے جسم کو دیکھی، میری جلد شہد کی طرح چمک رہی تھی اور سانسوں کی تپش میرے سینے کو تیزی سے اُبال رہی تھی۔ میں نے اپنے ہاتھوں سے اپنی رانوں کے درمیان اپنی چُوت میں انگلی ڈالی اور ایک گہرا سسکاری لی، جس سے کمرے کی خاموشی ایک دم ٹوٹ گئی۔ میں اس وقت کسی بھی چیز کی پرواہ نہیں کر رہی تھی، بس لن کی بھوک تھی جو میری چُوت کے اندر آگ لگی ...

وہ گناہ جس نے موت کے کالے سائے کو ہمیشہ کیلئے بھگا دیا

 

وہ گناہ جس نے موت کے کالے سائے کو ہمیشہ کیلئے بھگا دیا


ھیلو دوستو میرا نام زویا ھے اور اِس وقت میری ایج چالیس سال ھے میری یہ زندگی کی کہانی خوشیوں سے نہیں بلکہ گہرے صدمات سے شروع ہوتی ہے جب میری پہلی شادی ہوئی تو میں نے بہت سے حٓسین خواب سجا رکھے تھے میں اپنے نئے گھر اور نئی زندگی کو لے کر بہت پُرامید تھی میری رخصتی ھو گئی اور میں شوہر کے روم میں دلہن بنی اپنے دولہے کا انتظار کر رھی تھی 



رشتے دار سارے چلے گئے میرا دولہا اپنے دوستوں سے فارغ ھو کر روم میں آیا میں تو شرم کے مارے پانی پانی ھو رھی تھی ذہن میں چل رہا تھا پتا نہیں اب کیا ھونے والا ھے جیسے جیسے میرا دولہا ڈور لاک کرکے میری طرف آرہا تھا میرا دل بھی زور زور سے دھڑک رہا تھا لیکن دولہے کے ھونٹوں پر مسکراہٹ دیکھ کر مجھے بہت خوشی ھوئی اور میرا دولہا میرے ساتھ بیٹھ کر میرا 


گھونگھٹ اٹھا کر میرے حُسن کا دیدار کرے کہا میں بہت خوش قسمت ھوں کے تم جیسی خوبصورت مجھے بیوی ملی ھے میں شرمانے لگی دولہے نے کہا زندگی میں تمہیں کبھی کوئی دکھ نہیں دوں گا اور کوئی بیوفائی بھی نہیں کروں گا یہ میرا تم سے وعدہ ھے دولہے کی اس بات نے میرے اندر سب ڈر ختم کر دیا میں شرم کے مارے دولہے کو پیار سے دیکھنے لگی میرے 



دولہے نے اپنے ھونٹوں کو میرے ھونٹوں پر رکھ کر چومنے لگا میں بھی دولہے کا ساتھ دینے لگی پھر دولہے نے مجھے اپنی بانھوں میں کَس کے بھر لیا میرے بڑے ممے دولہے کے سینے میں ایک دم دب گئے مجھے بہت اچھا محسوس ھو رہا تھا پھر میرے بڑے مموں کو دبانے لگا اب میں بھی گرم ھو رھی تھی پھر دولہے نے میری قمیض اتار دی بَرا کے اوپر میرے مموں کو 



دباتے میرے ھونٹ چوسنے لگا پھر برا اتار کر میرے ننگے بڑے مموں کو دباتے چوسنے لگا مجھے زندگی کا وہ مزہ مل رہا تھا جس کی ہر عورت تمنا رکھتی ھے میں بھی دولہے کو چومنے لگی پھر دولہے نے میری شلوار اتار کر خود بھی ننگا ھو کر مجھے اپنا لن دیکھایا مجھے لن کو ہاتھ میں لینے کو کہا میں نے دولہے کے لن کو ہاتھ میں لے کر سہلانے لگی دولہے نے لن کو چوسنے کو کہا 



میں نے کیسے بولا منہ لو میں نے لن کو منہ میں لیا تو دولہا لن کو آگے پیچھے کرتے کہا ایسے چوسوں پھر میں لن کو چوسنے لگی دولہے نے پوچھا کے میرا لن کیسا ھے میں بولی بہت پیارا ھے ھے پھر دولہا میری چُوت کو چاٹنے لگا مجھے بہت مزہ آرہا تھا پھر دولہے نے میری چُوت میں لن ڈال کر سیل کھول دی اور ہر اسٹائل سے صبح تک ھم نے چدائی کی اور ھم ننگے ھی سو گئے 



اور اسی طرح ھم دونوں زندگی کے مزے روز دن رات کرنے لگے اور وقت دن آگے بڑھتا رہا میں شادی کی زندگی پاکر بہت خوش تھی شوہر مجھے بہت خوش رکھتا اور زندگی حَسین ھو رھی تھی لیکن تقدیر کا کھیل کچھ ایسا تھا جسے میں بدل نہیں سکتی تھی شادی کو ابھی صرف دو مہینے ہی گزرے تھے کہ قیامت ٹوٹ پڑی جو بہت کٹھن تھی  ابھی شادی کو دسرا مہنہ شروع ھوا ایک دن شوہر آفس کیلئے گھر سے نکلا



مجھے اسپتال سے کال آئی کے آپ کے شوہر کی ایک حادثے کی وجہ سے فوت ہو گیا ھے دو مہینے کا یہ مختصر ساتھ ہمیشہ کے لیے مجھ سے چھوٹ گیا میں ابھی اس پہلے بڑے صدمے کے گہرے اثرات سے نکل بھی نہ پائی تھی کہ چاروں طرف اندھیرا تھا اور میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا یوں میری زندگی کا پہلا باب انتہائی دردناک طریقے سے بند ہو گیا کچھ مہینوں بعد گھر والوں کا اصرار تھا کے وہ میری دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں 



------------------------------


"پہلے جنازے کا بوجھ اٹھانے کے بعد زویا اندر سے بالکل ٹوٹ گئی

کیا وہ اپنی بدقسمتی کے آگے گھٹنے ٹیک دے گی یا تقدیر اسے کسی ایسے موڑ پر لے جائے گی جہاں موت کا کالا سایہ بھی ہار مان جائے

کیا زویا دوسری شادی کرے گی؟ کیا اب کی بار اسے زندگی کا وہ سکھ مل پائے گا جس کی وہ برسوں سے پیاسی ہے... یا پھر ایک نیا طوفان اس کا منتظر ہے؟

یہ سب جاننے کے لیے اگلے (Part 2)  کا انتظار کریں یا اب ہی نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں!"


--------------👇----------------





Comments

Popular posts from this blog

بڑے بھائی سے کسے ‏STEP

بھابھی ‏نے ‏چادر ‏ہٹاتے ‏ھوئے ‏کہا