بے لجام عورت کی پیاس: جب خواہش حد سے بڑھ گئی! | Sachi Kahani 😱
Copying is prohibited. Legal action will be taken against violations ھیلو دوستوں میں ھوں شنو جان سچی اور گرم کہانیاں پڑھو، کمنٹ کرو۔ اپنی کہانی ای میل کرو، میں شیر کروں گی روز نئی کہانی اپڈیٹ ہوتی ھے۔ کاپی کرنا منع ھے۔ قانونی کاروائی ہوگی۔ Helo dosto! Main Shano Jaan. Sachi garm kahaniyan parho,comment karo.Apni kahani email karo, main share karungi. Roz nayi kahani update hoti hai.Note: Copying prohibited. Legal action will be taken.
وہ گناہ جس نے موت کے کالے سائے کو ہمیشہ کیلئے بھگا دیا
ھیلو دوستو میرا نام زویا ھے اور اِس وقت میری ایج چالیس سال ھے میری یہ زندگی کی کہانی خوشیوں سے نہیں بلکہ گہرے صدمات سے شروع ہوتی ہے جب میری پہلی شادی ہوئی تو میں نے بہت سے حٓسین خواب سجا رکھے تھے میں اپنے نئے گھر اور نئی زندگی کو لے کر بہت پُرامید تھی میری رخصتی ھو گئی اور میں شوہر کے روم میں دلہن بنی اپنے دولہے کا انتظار کر رھی تھی
رشتے دار سارے چلے گئے میرا دولہا اپنے دوستوں سے فارغ ھو کر روم میں آیا میں تو شرم کے مارے پانی پانی ھو رھی تھی ذہن میں چل رہا تھا پتا نہیں اب کیا ھونے والا ھے جیسے جیسے میرا دولہا ڈور لاک کرکے میری طرف آرہا تھا میرا دل بھی زور زور سے دھڑک رہا تھا لیکن دولہے کے ھونٹوں پر مسکراہٹ دیکھ کر مجھے بہت خوشی ھوئی اور میرا دولہا میرے ساتھ بیٹھ کر میرا
گھونگھٹ اٹھا کر میرے حُسن کا دیدار کرے کہا میں بہت خوش قسمت ھوں کے تم جیسی خوبصورت مجھے بیوی ملی ھے میں شرمانے لگی دولہے نے کہا زندگی میں تمہیں کبھی کوئی دکھ نہیں دوں گا اور کوئی بیوفائی بھی نہیں کروں گا یہ میرا تم سے وعدہ ھے دولہے کی اس بات نے میرے اندر سب ڈر ختم کر دیا میں شرم کے مارے دولہے کو پیار سے دیکھنے لگی میرے
دولہے نے اپنے ھونٹوں کو میرے ھونٹوں پر رکھ کر چومنے لگا میں بھی دولہے کا ساتھ دینے لگی پھر دولہے نے مجھے اپنی بانھوں میں کَس کے بھر لیا میرے بڑے ممے دولہے کے سینے میں ایک دم دب گئے مجھے بہت اچھا محسوس ھو رہا تھا پھر میرے بڑے مموں کو دبانے لگا اب میں بھی گرم ھو رھی تھی پھر دولہے نے میری قمیض اتار دی بَرا کے اوپر میرے مموں کو
دباتے میرے ھونٹ چوسنے لگا پھر برا اتار کر میرے ننگے بڑے مموں کو دباتے چوسنے لگا مجھے زندگی کا وہ مزہ مل رہا تھا جس کی ہر عورت تمنا رکھتی ھے میں بھی دولہے کو چومنے لگی پھر دولہے نے میری شلوار اتار کر خود بھی ننگا ھو کر مجھے اپنا لن دیکھایا مجھے لن کو ہاتھ میں لینے کو کہا میں نے دولہے کے لن کو ہاتھ میں لے کر سہلانے لگی دولہے نے لن کو چوسنے کو کہا
میں نے کیسے بولا منہ لو میں نے لن کو منہ میں لیا تو دولہا لن کو آگے پیچھے کرتے کہا ایسے چوسوں پھر میں لن کو چوسنے لگی دولہے نے پوچھا کے میرا لن کیسا ھے میں بولی بہت پیارا ھے ھے پھر دولہا میری چُوت کو چاٹنے لگا مجھے بہت مزہ آرہا تھا پھر دولہے نے میری چُوت میں لن ڈال کر سیل کھول دی اور ہر اسٹائل سے صبح تک ھم نے چدائی کی اور ھم ننگے ھی سو گئے
اور اسی طرح ھم دونوں زندگی کے مزے روز دن رات کرنے لگے اور وقت دن آگے بڑھتا رہا میں شادی کی زندگی پاکر بہت خوش تھی شوہر مجھے بہت خوش رکھتا اور زندگی حَسین ھو رھی تھی لیکن تقدیر کا کھیل کچھ ایسا تھا جسے میں بدل نہیں سکتی تھی شادی کو ابھی صرف دو مہینے ہی گزرے تھے کہ قیامت ٹوٹ پڑی جو بہت کٹھن تھی ابھی شادی کو دسرا مہنہ شروع ھوا ایک دن شوہر آفس کیلئے گھر سے نکلا
مجھے اسپتال سے کال آئی کے آپ کے شوہر کی ایک حادثے کی وجہ سے فوت ہو گیا ھے دو مہینے کا یہ مختصر ساتھ ہمیشہ کے لیے مجھ سے چھوٹ گیا میں ابھی اس پہلے بڑے صدمے کے گہرے اثرات سے نکل بھی نہ پائی تھی کہ چاروں طرف اندھیرا تھا اور میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا یوں میری زندگی کا پہلا باب انتہائی دردناک طریقے سے بند ہو گیا کچھ مہینوں بعد گھر والوں کا اصرار تھا کے وہ میری دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں
------------------------------
"پہلے جنازے کا بوجھ اٹھانے کے بعد زویا اندر سے بالکل ٹوٹ گئی
کیا وہ اپنی بدقسمتی کے آگے گھٹنے ٹیک دے گی یا تقدیر اسے کسی ایسے موڑ پر لے جائے گی جہاں موت کا کالا سایہ بھی ہار مان جائے
کیا زویا دوسری شادی کرے گی؟ کیا اب کی بار اسے زندگی کا وہ سکھ مل پائے گا جس کی وہ برسوں سے پیاسی ہے... یا پھر ایک نیا طوفان اس کا منتظر ہے؟
یہ سب جاننے کے لیے اگلے (Part 2) کا انتظار کریں یا اب ہی نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں!"
--------------👇----------------
Comments
Post a Comment