بے لجام عورت کی پیاس: جب خواہش حد سے بڑھ گئی! | Sachi Kahani 😱

Image
ھیلو دوستو میرا نام زویا ھے میں گاؤں کی رہنے والی سیدھی سادی لڑکی تھی میری دوستی ایک لڑکے عدیل سے ھو گئی جسے میں بہت پیار کرتی تھی میں عدیل کے پیار میں اتنی ڈوب گئی کے اس عدیل کے ساتھ میں بھاگ کر شہر آگئی آج میں اپنی یہی کہانی سنانے کیلئے آئی ھوں تو میں شروع کرتی ھوں تو دوستو یہاں آکر ھم ساتھ رہتے مزے کرنے لگے ایک دن دب رات بس چدائی کرتے رہتے ہمارے پاس پیسے ختم ھو گئے مگر میں مزید گرم ھوتی گئی اب مجھے لگتا تھا صرف عدیل اکیلا میری آگ نہیں بجھا سکتا ھم دونوں ننگے رہتے تھے میری آگ دن با دن بڑھتی جا رھی تھی رات کو ھم نے ایسی چدائی کی کے گھر کے سارے کپڑوں کا ڈھیر فرش پر بکھرا پڑا تھا۔ ایک بٹن ٹوٹ کر دیوار سے جا ٹکرایا۔ میں نے آئینے میں اپنے جسم کو دیکھی، میری جلد شہد کی طرح چمک رہی تھی اور سانسوں کی تپش میرے سینے کو تیزی سے اُبال رہی تھی۔ میں نے اپنے ہاتھوں سے اپنی رانوں کے درمیان اپنی چُوت میں انگلی ڈالی اور ایک گہرا سسکاری لی، جس سے کمرے کی خاموشی ایک دم ٹوٹ گئی۔ میں اس وقت کسی بھی چیز کی پرواہ نہیں کر رہی تھی، بس لن کی بھوک تھی جو میری چُوت کے اندر آگ لگی ...

دل کا کھیل



  مالکن کی ڈائری - چیپٹر 4: دل کا کھیل


میں نے بینا سے کہا، "رات کو بیٹا آئے گا۔ تم بس اسے محسوس کراؤ کہ تمہیں وہ اچھا لگتا ہے۔ میں کوئی بہانہ کر کے چلی جاؤں گی۔"


بینا مسکرا دی، "آپی، ٹھیک ہے۔"


رات کو بیٹا آیا۔ ہم تینوں ساتھ کھانا کھانے بیٹھے۔ میں نے دیکھا بینا کی نظریں بار بار بیٹے پر جا رہی تھیں۔ بیٹا بھی خوش تھا، اس کی آنکھوں میں چمک تھی۔


میں نے کہا، "میں فون لے کر آتی ہوں" اور کچن سے نکل گئی۔ باہر کھڑے ہو کر میں نے پلٹ کر دیکھا...


بیٹے نے بینا کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کے بہت قریب ہو گئے تھے۔ بینا شرما رہی تھی، بیٹا مسکرا رہا تھا۔


میرے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ میں کھانس کر اندر آئی تو دونوں فوراً سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔


کھانا ختم کر کے بیٹا اپنے کمرے میں چلا گیا۔ بینا نے دھیرے سے کہا، "آپی، اس نے مجھے اپنے کمرے میں بلایا ہے۔"


میں نے اس کا ہاتھ دبایا، "جاؤ بینا۔ رات تم اس کے ساتھ رہو۔ صبح ہم بات کریں گے۔"


بینا چلی گئی۔ میں کمرے میں آ کر لیٹ گئی، پر نیند نہیں آ رہی تھی۔ دل عجیب سا بے چین تھا۔


اٹھ کر میں دبے پاؤں بیٹے کے کمرے کے پاس گئی۔ دروازہ ہلکا سا کھلا تھا۔


اندر کا منظر دیکھ کر میری سانسیں رک گئیں۔ بینا اور بیٹا... ایک دوسرے کی بانہوں میں تھے۔ دونوں کی قربت دیکھ کر میرے جسم میں آگ سی لگ گئی۔


میں واپس اپنے کمرے میں آ گئی۔ دل اور جسم دونوں بے قرار تھے۔ بہت دیر بعد نیند آئی۔


صبح اٹھ کر دیکھا تو بینا بیٹے کے کمرے سے نکلی۔ اس کے چہرے پر شرم اور خوشی دونوں تھی۔


"آپی..." بینا نے میرے پاس آ کر سر جھکا لیا۔


میں مسکرا دی، "سب ٹھیک ہے بینا؟"


بینا نے سر ہلا دیا۔ پھر دھیرے سے بولی، "آپی، تمہارا بیٹا... بہت کیئرنگ ہے۔"


میں شرما گئی۔ ناشتہ بناتے ہوئے میرا دل ابھی تک دھڑک رہا تھا۔



بیٹا ناشتہ کر کے چلا گیا۔ بینا نے مجھے گلے لگا لیا، "آپی، آج تمہاری باری ہے۔"


میں نے بس اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ دل نے ہاں کر دی۔


اس دن کے بعد ہمارا ایک اصول بن گیا۔ ایک رات بینا میرے ساتھ، ایک رات بیٹے کے ساتھ۔ بیٹا خود کہتا، "آج آپی کے پاس جاؤ بینا۔"


ایسے ہی 20 دن گزر گئے۔ جب دونوں کی چھٹی ہوتی تو گھر میں محبت ہی محبت ہوتی۔


ایک دن چھٹی تھی۔ میں اور بینا کمرے میں تھے۔ دروازہ کھلا اور بیٹا اندر آ گیا...


👉 چیپٹر 5 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں:

---



Comments

Popular posts from this blog

بڑے بھائی سے کسے ‏STEP

بھابھی ‏نے ‏چادر ‏ہٹاتے ‏ھوئے ‏کہا