بے لجام عورت کی پیاس: جب خواہش حد سے بڑھ گئی! | Sachi Kahani 😱

Image
ھیلو دوستو میرا نام زویا ھے میں گاؤں کی رہنے والی سیدھی سادی لڑکی تھی میری دوستی ایک لڑکے عدیل سے ھو گئی جسے میں بہت پیار کرتی تھی میں عدیل کے پیار میں اتنی ڈوب گئی کے اس عدیل کے ساتھ میں بھاگ کر شہر آگئی آج میں اپنی یہی کہانی سنانے کیلئے آئی ھوں تو میں شروع کرتی ھوں تو دوستو یہاں آکر ھم ساتھ رہتے مزے کرنے لگے ایک دن دب رات بس چدائی کرتے رہتے ہمارے پاس پیسے ختم ھو گئے مگر میں مزید گرم ھوتی گئی اب مجھے لگتا تھا صرف عدیل اکیلا میری آگ نہیں بجھا سکتا ھم دونوں ننگے رہتے تھے میری آگ دن با دن بڑھتی جا رھی تھی رات کو ھم نے ایسی چدائی کی کے گھر کے سارے کپڑوں کا ڈھیر فرش پر بکھرا پڑا تھا۔ ایک بٹن ٹوٹ کر دیوار سے جا ٹکرایا۔ میں نے آئینے میں اپنے جسم کو دیکھی، میری جلد شہد کی طرح چمک رہی تھی اور سانسوں کی تپش میرے سینے کو تیزی سے اُبال رہی تھی۔ میں نے اپنے ہاتھوں سے اپنی رانوں کے درمیان اپنی چُوت میں انگلی ڈالی اور ایک گہرا سسکاری لی، جس سے کمرے کی خاموشی ایک دم ٹوٹ گئی۔ میں اس وقت کسی بھی چیز کی پرواہ نہیں کر رہی تھی، بس لن کی بھوک تھی جو میری چُوت کے اندر آگ لگی ...

میں سیکسی ہاؤس وائف

 میں سیکس کی دیوانی تھی اور اپنے مموں کو دباتی تھی پھر کچھ لڑکے مجھے چومتے تھے اور مموں کو دباتے تھے پھر میں خود ان سے اپنے مموں کو دبواتی چسواتی گاؤں کے ہر جوان مرد کا لن لیتی تھی اور میرے ممے بہت بڑے ھوگئے پھر میری کسی امیر گھر میں شادی ھو گئی شوہر تو چدائی مٹکوئی کسر نہیں چھوڑتا تھا بس میرے مموں کو دباتا چوستا نہیں تھا میری نند جوان تھی مگر اس کے چھوٹے ممے تھے سوہاگ رات کو جب میں اور نند تھی تو نند بولی بھابھی آپ کے ممے بڑے ہیں میرے چھوٹے ہیں یہ بڑے کیسے ھوتے ہیں نند کی بات سن کر میں ہنس پڑی تو شوہر آیا نند باہر چلی گئی شوہر نے میری شلوار اوپر کرکے سوکھا لن ایک دم چوت میں ڈال دیا میری خشک چوت کو شوہر کا لن چیر کر اندر چلا گیا مجھے بہت تکلیف ھوئی لیکن شوہر نے زبردست چدائی کی نہ چوما نہ چماچٹی پھر مجھے فارغ کیئے شوہر فارغ ھو گیا میں بہت گرم تھی شوہر نے کہا میں بہت گرم تھا جلدی فارغ ھو گیا میں چوت میں انگلی ڈال کر چوت کا رس نکال کر سو گئی پھر دن میں نند میرے بڑے مموں کی تعریف کرنے لگی بولی بھابھی کاش میرے ممے بھی آپ کے بڑے مموں کی طرح ھوتے میں بولی تم بچی ھو بڑے ھو جائنگے پھر رات کو شوہر فارغ ھو گیا میں واشروم میں آکر ننگی ھوکر مموں کو چوستی چوت کا رس نکال کر سو گئی اب شادی کو پندرہ دن ھو گئے تھے شوہر کی وھی روٹین تھی ایک تو چومتا نہیں تھا بس لن دال کر مجھے گرم کے خود فارغ ھو کر سو جاتا میں واشروم میں ننگی سیکس کرکے سوجاتی ایک بار ایسا ھوا کے نند اپنے روم میں تھی میں کھڑکی سے دیکھی نند اپنے مموں پر کچھ لگا کر دباتی مساج کر رھی تھی کچھ دیر بعد نند اپنے ہاتھ کو چوت پر لےگئی اور چوت میں انگلی کرنے لگی بس پھر مموں کو دباتی چوت میں انگلی کرتی تھی من کر رہا تھا کے جاکر پیاری مند کو چوموں پھر مند فارغ ھو گئی میں اپنے روم میں آکر مند کو خیال میں لاکر چوت کا رس نکال کر سکون کی نیند مجھے بہت پیاری لگتی تھی نند کو بس میرے بڑے مموں کی تعریف کرتی پوچھتی کے ممے بڑے کیسے ھوتے ہیں میں کہتی ھوجائنگی پھر کہتی بڑی تو ھوں ممے بڑے نہیں ھو رھے پھر صبح کو شوہر نے بتایا کے آج رات گھر نہیں آؤں گا شہر سے باہر جارہا ھوں پھر رات کو روم میں نند آگئی کہا بھابھی بھائی نہیں ھے تو آج رات آپ کے ساتھ سو جاؤں خوب باتیں کرینگی ھم اور نند کے  ہاتھ کوئی چھوٹی سی بوتل تھی..,

Comments

Popular posts from this blog

بڑے بھائی سے کسے ‏STEP

بھابھی ‏نے ‏چادر ‏ہٹاتے ‏ھوئے ‏کہا