بے لجام عورت کی پیاس: جب خواہش حد سے بڑھ گئی! | Sachi Kahani 😱
Copying is prohibited. Legal action will be taken against violations ھیلو دوستوں میں ھوں شنو جان سچی اور گرم کہانیاں پڑھو، کمنٹ کرو۔ اپنی کہانی ای میل کرو، میں شیر کروں گی روز نئی کہانی اپڈیٹ ہوتی ھے۔ کاپی کرنا منع ھے۔ قانونی کاروائی ہوگی۔ Helo dosto! Main Shano Jaan. Sachi garm kahaniyan parho,comment karo.Apni kahani email karo, main share karungi. Roz nayi kahani update hoti hai.Note: Copying prohibited. Legal action will be taken.
مگر میں اپنی ایک آپ بیتی سنانا چاہتی ھوں
یہ اس وقت کی بات ھے جب میری شہر میں پوسٹنگ ھوئی
میں یہ بتاتی چلوں کے میرے شوہر کا انتقال ھو چکا ھے اور میرے چار بچے ہیں دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں
ابھی بچے بہت کمسن تھے میں ایک نجی آفس میں جاب کرنے لگی تھی اور چار سال ھو گئے اپنے بچوں میں خوش تھی اور میری ترقی ھو گئی اور مجھے دوسرے شہر کے آفس کی ہیڈ بنا دیا گیا اور میں آفس کے ساتھ وھی کرائے پر مکان لے لیا
نیچے مالک مکان رہتے تھے اور اوپر میں رہتی تھی اور بچے بچوں کو اسکول بھیجنے کے بعد میں آفس چلی جاتی پھر بچوں کو اسکول سے گھر لاتی کھانا کھلاتی میں کھاتی اور پھر آفس چلی جاتی اور رات کے آٹھ بجے گھر آجاتی بس یونھی سلسلا چلتا رہا
ایک دن بچوں نے بتایا کے مالک مکان آنٹی بتا رھی تھی کے اس کا بیٹا آنے والا۔ھے دوبئی سے
خیر ایک دن آفس کی چھٹی تھی میں بچوں کے ساتھ گھر میں تھی اور ڈور پر دو بار نوک ھوئی
میں جا کر ڈور کھولا تو آگے ایک لڑکا تھا مجھے دیکھ کر کہا بہت خوبصورت ھو میرا دل آگیا ھے تم پر میں بدتمیز کہے کر ڈور بند کر دیا
ایک دن ایسا ھوا کے میرے بچے اسکول گئے میں تیار ھو کر آفس جانے کیلئے ڈور کھولا
تو سامنے مالک آنٹی کا بیٹا تھا اور مجھے باھوں میں بھر چومنے لگا میرے مموں کو دبایا میرے منہ میں اپنا منہ ڈال دیا اور کچھ دیر میں نے اسے جھٹکا دے کر اپنے سے دور کیا میں نے کہا گھٹیا انسان اور میں آفس آ گئی
۔
مجھے وہ مجھے سارا دن یاد آتا رہا اور میرے بھی سوئے ارمان جاگ رھے تھے
پھر میں بچوں کو اسکول سے گھر لائی اور ڈور اسی نے کھولا بچے تو اسے انکل کہے رھے تھے
وہ میرے قریب ھونے لگا جیسے مجھے ابھی اٹھا کر روم میں لے جائے گا اور مجھے ڈال دے گا میں بچوں کو ڈانٹ کر کہا چلو مجھے آفس جانا ھے پھر آفس جانے کیلئے باہر آئی
تو وہ مل گیا کہا میں تو تمہارا عاشق ھو چُکا ھوں میں نے کہا دیکھو مجھے پریشان نہ کرو کہا میں تو تم سے پیار کی بات کرنا چاہتا ھوں میں نے کہا نہیں کرنی مجھے باتیں
اور میں آفس آگئی سارا دن میں اس کے بارے میں سوچتی رھی میرے بھی سوئے ارمان جاگ اٹھے تھے
کیونکہ شوہر کے مرنے کے بعد مجھے کبھی سیکس کا خیال بھی نہیں آیا تھا مگر اس نے میرے اندر سر سری پیدا کر دی
کبھی دل میں آتا کے ایک بار کر لوں پھر سوچتی کہیں بدنام نہ ھو جاؤں کبھی کیا کروں میں میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کے کیا کروں سوچتی اگر ایک بار کرنے کے بعد اس نے مجھے چھوڑ دیا تو
میں بہت ٹینشن میں تھی تو ذہن میں ایا کے اس کی پٹائی کرتی ھوں پھر صبح کو بچے سکول گئے تو پھر آگیا اور میں نے چپل اتار لی اور اسے بہت مارا لیکن اس نے اوف تک نہ کی چپ چاپ مار کھاتا کھڑا رہا میں نے ڈور بند کر دیا کچھ دیر بعد میں آفس کیلئے نکلی اور چلی گئی
آفس میں مجھے اس پر بہت ترس آنے لگا اور مجھے افسوس ھونے لگا کے بچارے کو چپلوں سے بہت مارا پھر میں رات کو گھر آئی تو سامنے آنٹی مل گئی مجھ سے حال چال پوچھنے لگی
اتنی دیر میں وہ آگیا تو اس نے اپنی مما سے کہا مما بتادو میں سہم گئی کے کچھ پنگا تو نہیں ھونے والا
آنٹی نے کہا آج کا ڈنر ہمارے ہاں ھے کہا انکار نہیں کرنا میں نے بہت پیار سے کھانا بنایا ھے بچوں کی پسند کا بھی بنایا ھے میں نے اسے دیکھا وہ ماں کے سامنے شریف بن کر کھڑا تھا خیر میں نے کہا ھم آئیں گے کہے کر اوپر چلی گئی
پھر ھم ڈنر کرنے آئے بس مجھے وہ دیکھے جارہا تھا اور بچوں کے ساتھ باتیں کر رہا تھا آنٹی اور میں کھانا کھاتی باتیں کر رہیں تھیں
پھر صبح بچے سکول گئے اور وہ آگیا میں ڈور کھولا تو اس نے مجھے پکڑ کر اٹھا لیا اور روم میں لایا میں منع کر رھی تھی کیا کر رھے ھو چھوڑو مگر روم میں مجھے بیڈ پر لیٹا کر چڑھ گیا
اور مجھے پیار کرنے لگا دل کرتا کے اس کے منہ پر تھپڑ مارو مگر ترس آجاتا خیر اس نے مجھے بہت چوما میں چھڑانے کیلئے ہلتی رھی اب مجھ میں بھی آگ بھڑکنے لگی
میرے مموں کو باہر نکالنے لگا تو میں جھٹکے سے اٹھ گئی میں نے کہا مجھے آفس کو دیر ھو رھی ھے کہا بولو تو میں چھوڑ دوں میں کہا نہیں میں چلی جاؤں گی خیر اس نے کہا ٹھیک ھے جاؤ پھر آفس چلی گئی
پھر بچوں کو اسکول سے لائی تو پھر مل گیا اور بچوں سے باتیں کرنے لگا بچے بھی اس کی تعریف کرتے پھر میں آفس سے گھر آئی تو مجھے پکڑ لیا
میں نے کہا دیکھو میرے بچے ہیں ایسا مت کیا کرو میں بدنام ھو جاؤں گی اکثر مطلب نکلنے کے بعد بدل جاتے ہیں یہ کہے کر میں اوپر آگئی اور پھر
صبح کو آگیا اور وھی کیا پکڑ لیا اور روم میں لایا پیار کرنے لگا میں بھی گرم ھو گئی اور اسے چومنے لگی اتنی دیر میں اس نے میری چوت میں لن پیل دیا
اور میں مست ھو گئی میرے مموں کو نکال کر چوستے ھوئے زبردست چدائی کر رہا تھا میں بھی مستی میں تھی میں فارغ ھوئی تو کچھ دیر میں وہ میری چوت میں فارگ ھو گیا کچھ دیر ھم یوھی پڑے رھے آفس سے کال آئی میں طبیعت خراب کا کہے کر نہ آنے کو بولی
اتنی دیر میں پھر وہ شروع ھو گیا اس بار مجھے ننگا کیا خود بھی ننگا ھو گیا میری چوت کو بہت چاٹا ایسا مزہ پہلی بار تھا میں بہت گرم ھو گئی
Comments
Post a Comment